فتح یابی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جیت، ظفریابی، کامیابی، غلبہ، نصرت۔ "نفرت کسی پائیدار جماعت یا فتح یابی کا اینٹ گارا نہیں بن سکتی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٧٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'فتح' کے بعد فارسی مصدر 'یافتن' سے مشتق لاحقہ کیفیت 'یابی' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جیت، ظفریابی، کامیابی، غلبہ، نصرت۔ "نفرت کسی پائیدار جماعت یا فتح یابی کا اینٹ گارا نہیں بن سکتی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٧٢ )

جنس: مؤنث